حضرت ہارون علیہ السلام کے واقعات

Photo by Alex Azabache from Pexels

 حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام کے سگے بھائی تھے اور آپ سے تین سال بڑے تھے

 آپ کی پیدائش 530 قبل مسیح میں ہوئی یہ زمانہ 523 ق م تھا اور مصر میں رمیز دوم کی حکومت تھی فرعون رعمیس دوم اس زمانے میں بوڑھا ہو چکا تھاحضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو اکٹھے نبوت سے سرفراز فرمایا گیا حضرت موسی علیہ السلام کی زبان میں روانی نہیں تھی لیکن حضرت ہارون علیہ السلام وسیع بیان تھے حضرت ہارون کے والد کا نام عمران اور ماں کا نام  یوکبد تھاقرآن شریف میں حضرت موسی اور ہارون کا ذکر تقریبا اکٹھا ہی آیا ہے جیسا کہ سورۃ مریم میں مذکور ہے


 اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کو یعنی موسی کو  ان کا بھائی ہارون عطا کیا

 اللہ تعالی نے حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام کے کام میں مددگار بنا کر بھیجا کیوں کہ حضرت موسی کی زبان میں روانی نہ تھی اس لیے حضرت موسی نے دعا فرمائی قرآن شریف میں حضرت موسی کی دعا کے بارے میں آیا ہے

 اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان چلتی ہے مجھ سے زیادہ تو اس کو بھیج میری مدد ہو میری تصدیق کرے میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھوٹا کریں فرمایا ہم مضبوط کریں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے اور دیں گے تم کو غلبہ پھر وہ نہ پہنچ سکیں گے تم تک ہماری نشانیوں سے تم اور جو تمہارے ساتھ ہو غالب رہو گے

پھر یہی بات اللہ تعالی نے سورۃ طٰہٰ میں فرمائیں

 اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والا میرے گھر کا ہارون میرا بھائی اس سے مضبوط کر میری کمر اور شریک کر اس کو میرے کام میں

حضرت ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نبوت سے سرفراز فرما کر حضرت موسی علیہ السلام کے لیے مددگار بنا کر بھیجا تا کہ بنی اسرائیل کی آزادی اور رشد و ہدایت میں آپ حضرت موسی علیہ السلام کا ہاتھ بٹا سکے حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب اور وزیر بنایا

حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالی کے عطا کردہ دونوں معجزات کا مشاہدہ کروایا اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بتایا کہ اللہ نے میری دعا سے تمہیں بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور اب تم میرے وزیر اور معاون و مددگار ہو میرا اور تمہارا کام وہ ہے جو اللہ نے ہمارے سپرد فرمایا ہے کہ ہمیں فرعون کے دربار میں پہنچ کر کلمہ حق بلند کرنا ہے اور ہمیں اپنی قوم کو آزادی دلانیں ہے تاکہ ہم اپنے آبائی وطن

جا سکیں

 حضرت ہارون علیہ السلام کو محسوس ہوا کہ ان کا ابہام سچا تھا دونوں بھائی رات کے وقت نہایت خاموشی سے اپنے گھر میں داخل ہوئے

 ماں حضرت موسی علیہ السلام کو پہچان نہ پائیں حضرت ہارون نے  انہیں نہ بتایا اور نہ ہی موسی علیہ السلام نے انہیں بتایا آخر حضرت موسی نے یہ خاموشی توڑی اور ماں سے لپٹ گئے

 کچھ دن بعد حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں اللہ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے فرعون منفتاح کے دربار میں پہنچے فرعون کو بھی دونوں بھائیوں کے دربار آنے کی خبر مل چکی تھی اس نے دونوں کو دربار میں بلایا


فرعون کے دربار میں دعوت حق

فرعون کے دربار میں حضرت ہارون نے اللہ کے حکم سے نہایت تفصیلی زبان اور روانی سے ایک جامع تقریر کی انہوں نے فرعون کو بتایا کہ تم خدا نہیں ہو محض ایک ادنیٰ بندہ ہوں خدا ایک ہے اور ساری دنیا اس کی مخلوق ہے فرعون کو انہوں نے دعوت حق دی اور پھر مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے تاکہ وہ اپنے وطن ارض مقدس جاسکی فرعون نے ان کی تقریر سنی تو بہت خفا ہوا اور آپ سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کون ہے
اور تم کس کو خدا کہتے ہو کیونکہ خدا تو میں ہوں نعوزبلا حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون کو بتایا کہ اللہ نے تمہاری اور تمہاری قوم کی اصلاح کے لئے ہم دونوں کو نبوت عطا فرمائی ہے حضرت موسی نے فرمایا اے فرعون بے شک تو خدا کا ادنیٰ بندہ ہے خدا تو وہ ہے جس نے تجھے اور ساری دنیا کو پیدا کیا
فرعون نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا اے موسی یاد کر تو نے ہمارے محل میں پرورش پائی اور تمہیں انتہائی ناز و نعمت سے ہم نے پالا تھا اگر ہمیں بروقت پتا چل جاتا کہ تو بنی اسرائیل سے ہے تو میں تجھے اسی وقت قتل کر دیتا
اس پر حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون یہ میرے رب کا کرم ہے کہ مجھے تیرے ہی محل میں پناہ دی اور پرورش فرمائیں اور مجھے تیرے اور تیرے باپ کے حق قتل ہونے سے بچا لیا
ہارون علیہ السلام نے بھی حضرت موسی علیہ السلام کی تقریر کو نہایت مؤثر طریقے سے بیان فرمایا اور مطالبہ کیا کہ اے فرعون تم خدا نہیں ہوں ہم تمہاری عبادت نہیں کر سکتے تم بنی اسرائیل کو آزاد کر دو تاکہ وہ اپنے وطن جا سکے اس میں تمہارا بھلا ہے
حضرت ہارون علیہ السلام مصریوں کو دریائے نیل کے کنارے لے گیا اور عصائے موسی کو پانی پر مارا دریائے نیل کا پانی لاٹھی لگتے ہیں خون بن گیا یہ منظر دیکھ کر مصری پریشان ہوگئے جب کہ بنی اسرائیل حضرت ہارون علیہ السلام کا یہ معجزہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کا حوصلہ بڑھ گیا
صدیوں کی غلامی نے بنی اسرائیل کو کسی قابل نہیں چھوڑا تھا اور وہ غلامی کے بوجھ تلے آواز اٹھانے کے قابل بھی نہ رہ گئے تھے لیکن حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام دونوں قبطی قوم کا مقابلہ کر رہے تھے اور مختلف طریقوں سے اپنی قوم میں ہمت اور حوصلہ پیدا کر رہے تھے
حضرت ہارون علیہ السلام نے ایک اور موقع پر لاٹھی ایک تالاب کے کنارے پر ماری تالاب میں ہر طرف مینڈک ابل پڑے ہر طرف مینڈک ہی  مینڈ ک ہوگئے اور مینڈکوں نے قبطیوں کی زندگی عذاب کر دی فرعون ایس بات پر بہت زیادہ غصہ ہوا کہ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام دونوں فرعون سے برابری کی سطح پر بات کرتے تھے اور فرعون کو خدا نہیں مانتے تھے
دونوں برابر اپنے رب کی بڑا ہی اور شان بیان کرتے تھے لیکن مصری قوم کو فرعون کا تکبر اور غرور کسی صورت کم نہیں ہوتا تھا حضرت ہارون علیہ السلام کو جہاں بھی موقع ملتا تبلیغ کرتے کے ایسے لوگوں فرعون رب نہیں ہے رب صرف وہی ہے جو مارتا ہے اور زندگی دیتا ہے پیدا کرتا ہے خدا بندہ ہے جس نے یہ ساری کائنات پیدا کی اور اس فرعون کو بھی پیدا کرنے والا ہے وہی خالق کل ہے
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب دونوں بھائی فرعون کے دربار میں جانے لگے تو ہارون اور موسی کی والدہ نے نہایت شفقت اور محبت سے دونوں کو روکنا چاہا اور کہا کے کیا تم ایسے شخص کے پاس جانا چاہتے ہو جو حکمران بھی ہے اور اپنے آپ کو غرور کی وجہ سے خدا بھی گردانتا ہے اور انتہائی سفاک اور ظالم ہےوہاں جانا بے سود ہے وہاں نہ جاؤ مگر دونوں نے والدہ کو سمجھایا کہ یہ خدا کا حکم ہے ڈالا نہیں جا سکتا اور خدا کا وعدہ ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی