قیامت کے دن غربت کا مزہ

 پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں ایک بابا جی رہا کرتے تھے باباجی بہت نیک کام کرتے اور لوگوں کو ہدایت کیا کرتے تھے ایک دن وہ لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلا رہے تھے کچھ نوجوان کھڑے ہوگئے اور بابا جی سے سوال کرنے لگےایک نوجوان میں بہت ہی عجیب سوال کیا اور بابا جی سے پوچھنے لگا

 اس نے کہا بابا جی اللہ نے بہت سے لوگوں کو بہت سا مال اور دولت عطا فرمائی ہے جب کے بہت سے لوگوں کو کچھ بھی نہیں 

 جب کہ عبادت سب پر فرض ہے نماز روزہ حج زکات تمام امیر اور غریب پر فرض ہےجب کے روزے محشر حساب سب کو برابر دینا پڑے گا تو اللہ تعالی نے غریب اور امیر مین فرق کیوں رکھا ہے

 بابا جی اس کی بات سن کر مسکرانے لگے اور کہا اے بیٹا بیٹھ جاؤ میں تم کو ایک کہانی سناتا ہوں

 جس سے تمہارے سوال کا جواب مل جائے گا اور تمہارا دل بھی مطمئن ہوجائے گابابا جی کہانی سنانے لگے اور کہا کے بیٹا ایک گاؤں میں ایک حجام رہا کرتا تھا جس کے پاس اس کا اپنے سامان کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا نہ اس کا گھر تھا نہ ہی رہنے کے لیے کوئی جگہ بس اس کے اپنے اوزار تھے وہ ان کو استعمال کرتا  اور اپنے ساتھ رکھ دیتا

 نہ اس کی  کوئی جائداد تھی نہ کوئی گاڑی بنگلے وغیرہ نہ پیسا

 سارا دن وہ حجام کا کام کرتا ہے اور شام کو جہاں جگہ مل جاتی وہاں پر سو جاتا لوگ اس کو اس کی غربت کے طعنے دیتے ہو اور اس کو اچھی نگاہ سے نہ دیکتے تھےایک دن خدا کا کرنا یوں ہوا کہ گاؤں میں سیلاب آ گیا لوگ اپنے سمان مال مویشی اور پیسے بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے کوئی اپنا گھر بچا رہا ہے تو کوئی مال مویشی کوئی اپنا زیوار تو کوئی اپنا سامان جب کے حجام ایک اونچے ٹیلے پر جاکر چادر بچھا کے سو کے لوگوں کو دیکھنے لگا حجام کو یوں آرام سے سوتا دیکھ کر گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ گاؤں میں سیلاب آگیا ہے اور تم یہاں آرام سے سو رہے ہو

 یہ سن کر حجام مسکرایا اور فخریہ انداز میں کہا کے

 آج ہی تو مجھے غربت کا مزہ آیا ہے نہ کوئی سامان نہ مال مویشی نہ جائیداد اور نہ ہی مجھے کسی چیز کا خوف باباجی تھوڑی دیر خاموش ہوئے اور لڑکے کی طرف دیکھ کر کہا بیٹا قیامت کے روز غریب آدمی بھی ایسے ہی غربت کے مزے لے گا نہ کوئی سامان نہ کوئی بنگلہ نہ کوئی گاڑی اور نہ ہی زیور اور نہ ہی کسی چیز کا حساب قیامت کے روز چادر بچھا کے سو تا غریب جب امیروں کو پلازو بنگلوں گھروں  گاڑیوں کا حساب دیتا دیکھے گا تو کہے گا کہ مجھے بھی آج ہی غربت کا مزہ آیا ہے

 یہ سن کر تمام لوگ رونے لگے اور خدا کا شکر ادا کرنے لگے اس نے جس حال میں بھی رکھا ہے اس کا شکر ہے اور اس میں اس کی کوئی نہ کوئی مصلیحت ہو گی

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی