ایک دن حضرت داؤد علیہ السلام اپنے محل میں بیٹھے ہوئے
| Photo by Jean van der Meulen from Pexels |
تھے کہ انہیں ایک خوبصورت پرندہ نظر آیا جو تھوڑی دور جا کر بیٹھ حضرت داؤد علیہ السلام کو پرندہ بہت خوبصورت لگا وہ اسے پکڑنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ پرندہ اڑ کر تھوڑی دور جا بیٹھا حضرت داؤد علیہ السلام بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے وہ پرندہ اڑتا اور تھوڑی دور جا کر بیٹھ جاتا حضرت بھی اس کے ساتھ ساتھ پیچھے جاتے آخر کار وہ پرندہ ایک باغ کی دیوار پر جا کر بیٹھ گیا حضرت داؤد بھی باغ دیوار کے پاس پہنچےوہ پرندہ باغ کے اندر چلا گیا حضرت داؤد علیہ السلام بھی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور باغ کے اندر دیکھنے لگے باغ کے اندر ایک بہت ہی خوبصورت عورت نہا رہی تھی وہ اتنی خوبصورت تھی کہ حضرت داؤد علیہ السلام کا اس پر دل آ گیا جب حضرت داؤد علیہ السلام کو احساس ہوا کہ وہ کسی دوسرے کے باغ کے اندر دیکھ رہے ہیں تو وہ اچانک نیچے اتر گئے اور واپس محل چلے گئے لیکن محل جانے کے بعد داؤد کا دل اس عورت کے لیے بے چین ہونے لگا حضرت داؤد اسے حاصل کرنے کے اندر ہی اندر تدبیریں کرنے لگے انہوں نے اپنے ایک غلام کو بھیجا کے جا کے پتہ کرو کہ یہ باغ کس کا ہے اور وہ عورت کون ہے غلام نے جا کر ساری تصدیق کی اور واپس آکر حضرت داؤد علیہ السلام سے کہا کہ وہ عورت جس کو آپ نے باغ میں دیکھا ہے اس کا نام بطشا ہے اور وہ آپ کے ایک فوجی افسر اوریا کی بیوی ہےحضرت داؤد علیہ السلام نے اوریا کو بلوایا اور انہیں ایک علاقہ جس میں جنگ چل رہی تھی وہاں بھیج دیا تاکہ وہ شہید ہو جائے اور اس کی بیوی کے ساتھ داود علیہ السلام نکاح کر لے اوریا جب جنگ پر جاتا ہے تو وہاں بڑی دلیری کے ساتھ لڑتا ہے اور اللہ کی راہ میں شہید ہو جاتا ہےاوریا کے شہید ہونے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام بطشا سے شادی کر لیتے ہیں اس واقعہ کو قافی عرصہ گزر جاتا ہے ایک دن حضرت داؤد علیہ السلام اپنے محل میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ اچانک دو شخص دیوار توڑ کر اندر آ جاتے ہیں اور حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ اے داؤد پریشان نہ ہو ہم دونوں بھائی ہیں اور آپس میں لڑ رہے ہیں ہمارے ساتھ انصاف کیجئے اور ہمارا فیصلہ کیجئے حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا اچھا ٹھیک ہے بتاؤ تمہارا کیا معاملہ ہے تاکہ میں تم دونوں میں انصاف کر سکو ان میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ یہ جو شخص کھڑا ہے یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بکری ہے اور میرے پاس ایک بکری اس کے باوجود یہ شخص میری ایک بکری کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ وہ بکری بھی مجھے دے دو حضرت داؤد علیہ السلام نے دوسرے شخص سے پوچھا کیوں بھئی کیا تمہارا بھائی صحیح کہہ رہا ہے اس نے کہا ہاں میرے بھائی صحیح کہہ رہا ہے میرے پاس ننانوے بکری ہے لیکن میرا دل اس کی ایک بکری پر آگیا ہے اور میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں اس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا کہ تم بڑے ظالم شخص ہو کہ تمھارے پاس رب کی دی ہوئی ننانوے بکریاں ہیں تم اس غریب کی ایک بکری لے لینا چاہتے ہو اس پر وہ دونوں ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ اے داؤد ہم اللہ کے فرشتے ہیں اور ہم آپ کو بتانے آئے ہیں کہ آپ نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے باوجود اس کے کہ آپ کی ننانوے بیویاں تھیں اوریا کی بیوی کو اپنےحرم میں شامل کرلیا حضرت داؤد علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا وہ اسی وقت سجدے میں گر گئے اور رو رو کر خدا سے استغفار کرنے لگےکئی دنوں تک وہ روتے رہے اور خدا سے استغفار کرتے رہے آخر کا خدا کو ان پر رحم آیا اور خدا نے فرشتہ بھیجا اور فرشتے نے کہا کہ اےداود خدا نے تمہیں معاف کر دیا ہے لیکن تمہیں اوریا کی قبر پر جا کر معافی مانگنا ہوگی تاکہ قیامت کے دن اوریا تم سے باز پرس نہ کرے حضرت داؤد علیہ السلام اوریا کی قبر پر جاتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں اللہ کے حکم سے اور یا اس کی پکار کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کون ہے جو مجھے بار بار پکار رہا ہے اور میری نیند خراب کر رہا ہے اس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا کہ میں داؤد ہو اور تم سے معافی مانگنے آیا ہوں اور یا کہتے ہیں اے داؤد علیہ السلام آپ نے مجھے جنگ پر جانے دیا اور میں وہاں شہید ہوگیا اور اللہ کے ہاں اس کا بہت بڑا انعام پایا میں یہاں بہت عیش اور آرام سے ہوں اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کو معاف کرتا ہوںمعافی ملتے ہی حضرت داؤد علیہ السلام خوش ہو گئے اور واپس محل آگئے لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے فرشتہ پہنچا اور حضرت داؤد علیہ السلام سے کہا کہ واپس قبر پر جاؤ اور اوریا سے پورا واقعہ بیان کروں کہ آپ نے انہیں جنگ پر کیوں بھیجا تھا اور اس کے شہید ہونے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی تھی اس پر معافی مانگنا چاہتا ہوں حضرت داؤد علیہ السلام جب واپس قبر پر پہنچے اور یا سے سارا معاملہ بیان کیا تو اور یا یہ سب سن کر خاموش ہو گیا اور کوئی جواب نہیں دیا اس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ سے روتے ہوئے توبہ استغفار کی اور کہا اے اللہ اوریا مجھے معاف نہیں کرتا تو مجھ پر رحم کر۔ تو اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا اور حضرت داؤد علیہ السلام سے کہا کہ اے داؤد پریشان نہ ہو قیامت کے دن میں اوریا کو ایک ایسا محل دوں گا جس کو دیکھ کر اور اسے پانے کی خواہش میں وہ آپ کی خطا کو معاف کر دےیہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام واپس آ گئے لیکن وہ ساری زندگی اپنے اس واقع پر روتے رہے اور خدا سے معافی مانگتے رہے
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
Good
جواب دیںحذف کریں