مینار پاکستان واقعہ عائشہ اکرم

 بچپن میں ہم ایک کہانی پڑھا کرتے تھے جس کا نام تھا ایک بھیڑیا اور بکری کہانی تو پڑھتے تھے نصیحت بھی لیتے تھے لیکن کہانی کی سمجھ نہیں تھی کے آخر اس میں ہم کو سمجھایا کیا گیا ہے کہانی میں بتایا گیا ہے کہ ایک جنگل میں ایک بھیڑیا اور بکری رہا کرتے تھے جنگل میں پانی کا ایک ہی تلاب ہوتا ہے جس میں تمام جانور پانی پیا کرتے تھے  ایک دن بکری تالاب سے پانی پینے گئی تو وہاں پر موجود  بھیڑیا نے اس کو پکڑ لیا اور کھانے لگا بکری نے التجا کی کہ تم مجھ پر ظلم کیوں کر رہے ہو میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے تم مجھے کیوں کھا رہے ہو میرا قصور کیا ہے اس پر بھیڑیا نے کہا کہ تم نے پچھلے سال میرا پانی کا تالاب خراب کر دیا تھا تمہارا یہ قصور ہے اس وجہ سے میں تمہیں کھا رہا ہوں اس پر بکری نے روتے ہوئے کہا کہ میری تو عمر  ابھی سات  ماہ ہیں میں پچھلے سال تمہارا تالاب کیسے خراب کر سکتی ہو جب کہ پچھلے سال تو میں پیدا ہی نہیں ہوئی تھی اس پر بھیڑیا تھوڑا شرمندہ ہوا اور ڈھیٹ بن کر بولا اچھا تو وہ تمہارا باپ ہوگا جس نے میرا تالاب خراب کیا ہے بکری نے پھر روتے ہوئے کہا کہ میرے باپ کو تو اس دنیا سے گئے ہوئے دو سال گزر گئے ہیں وہ کیسے پچھلے سال تمہارا تالاب خراب کر سکتا ہے اس پر بھیڑ یا پھر شرمندہ ہوا اور پھر  ڈھیٹ بن کر بولا اچھا تو وہ تمہارا بھائی ہوگا جس نے میرا تالاب خراب کیا ہےاس پر بکری نے کہا کہ میرا تو کوئی بھائی نہیں ہے میں تو اپنے ماں باپ کی اکیلی ہوں اس پر بھیڑیا پریشان ہو گیا اس سے کوئی بہانہ نہیں بن رہا تھا وہ سوچنے لگا جب بکری پر کوئی بھی جرم نہ ثابت ہو سکا تو آخر میں بھیڑیئے نے یہ کہتے ہوئے بکری کو کھا لیا کہ وہ تم جیسی ہی کوئی بکری تھی جس نے میرا تالاب خراب کیا تھا مقصد بکری کو کھانا تھا  اس پر جرم ثابت کرنا تو صرف ایک بہانہ تھا کسی نہ کسی طریقے سے اس کو قصوروار ثابت کرنا تھا کیونکہ وہ جنگل تھا اور جنگل کا یہی قانون ہوتا ہےاور یہی کچھ پچھلے دنوں مینارے پاکستان میں دیکھنے کو آیا جہاں پر دو سو بھیڑیے ایک بکری کو کھانے پر تلے ہوئے تھے وہ اس پر فلائنگ کس نہ زیبا کپڑے  ٹک ٹاکر جیسے الزام لگا رہے تھے وہ اپنے اوپر لگائے گئے ہر الزام سے انکار کر رہی تھی اور منت سماجت کر رہی تھی کہ اسے چھوڑ دیا جائے لیکن بھیڑیوں کا مقصد تو صرف اور صرف اسے کھانا تھا اس سے انہیں کوئی غرض نہیں تھی کہ اس کا جرم ہے یا نہیں اور آخر میں انہوں نے یہ کہہ کر اس کی عزت تار تار کر ڈالی کے اس نے اپنے مداحوں کو ایک دن پہلے خود ہی فون کر کے بلایا تھا اور وہ اپنی صفائی دینے کے باوجود  بھیڑیوں کا شکار ہوگئی شاید یہ۔ بھی   جنگل تھا اور جنگل کا تو یہی قانون ہوتا ہےہمارے معاشرے میں عورت پر صرف الزام لگانا ہی کافی ہے اس کا جرم ثابت کرنا یا ثابت کرنے کی کوشش کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا بس اس پر الزام لگا دیا جائے کہ وہ بدکردار ہے تو بس وہ بدکردار ہی ہے

 دنیا کی کوئی طاقت اسے بے گناہ ثابت نہیں کر سکتی ایک بے پردہ عورت مینارے پاکستان پر آ گئ تھی اور مینار پاکستان پر موجود باکردار لوگ اس پر بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے تھے کہ یہ عورت بے پردہ ہے

 اس بات سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ان لوگوں کا اپنا کردار کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں بس وہ عورت بے پردہ ہے





اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


1 تبصرے

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی