حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ

 حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گزرے

 یہ تمام انبیاء صرف اپنے علاقوں اور اپنی اپنی قوموں کے لیے ہدایت کا پیغام لے کر آئے تھے. مگر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف کسی ایک علاقےکے لئے پیغمبر بنا کر نہیں بھیجے گئے

 قرآن اور سنت کی شکل میں جس ہدایت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا گیا اس میں پوری دنیا کے لئے اور قیامت تک آنے والی نسل انسانیت کے لیے ہدایت موجود ہےیہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زندگی کے تمام حالات سے واقف ہو جائیں گے اور آپ جان جائیں گے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ بہت عزت و احترام کے حامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون کون سی مشکلات مکہ میں پیش آئ

 اس تحریر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائیں۔ گھر بار چھوڑا جنگیں لڑیں اور اسلام کے پیغام کو دنیا میں روشناس کرایا


ولادت سے نبوت تک

بہت مدت پہلے عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے ایک گھر تعمیر کیا جس کا نام بیت اللہ  یعنی اللہ کا گھر رکھا گیا
 یہ گھر توحید کی علامت تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس گھر کو اسلام کی تبلیغ کا مرکز بنایا۔ لوگوں کو بتایا کہ اللہ ایک ہے وہی سب جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے وہی سب کو پالتا ہے ہر طرح کا نفع اور نقصان اس کے ہاتھ میں ہے وہ اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے اور برے کام کرنے پر ناراض ہوتا ہے اور سزا دیتا ہے
مدت تک عرب کے باشندے اسی عقیدے پر قائم رہے لیکن بعد میں ان میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بت بنا کر ان کو خدا کی اولاد قرار دیا ان کو اللہ تعالی تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا اور اللہ تعالی کے اختیارات ان سے منسوب کر دیے
 عقیدے میں خرابی کا اثر یہ ہوا کہ ان کی زندگی میں ہر طرح کی خرابیاں پیدا ہوگئی لڑائی جھگڑے قتل و غارت غریبوں اور مجبور لوگوں پر ظلم کرنا اور بچوں کو اغوا کرکے بھیج دینا یا انکو غلام بنا لینا
ان کی زندگی ایسی تھی کہ اس کا نقشہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد حضرت جعفر طیار نے حبشہ کی ہجرت کے موقع پر نجاشی کے دربار میں ان الفاظ میں کھینچا

اے بادشاہ ہم مردار کھاتے تھے ہمسایوں کو ستاتے طاقتور لوگ کمزوروں کا حق چھین لیتے ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے بت پوچھتے تھے 

بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا


جاری ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی