چڑیا کے شوہر کو شکاری نے مار دیا چڑیا بادشاہ کے پاس گئی

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک چڑیا اور اس کا شوہر رہا کرتے تھے وہ گاؤں بہت خوبصورت تھا اور وہ دونوں ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہے تھے. گاؤں میں ہر طرح کی سہولت موجود تھی. چگنے کے لئے اناج اور پینے کے لئے گاؤں میں ایک جھیل تھی جس میں تمام پرندے پانی پیا کرتے تھے دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے اور اپنی زندگی بہت پرسکون طریقے سے گزار رہے تھے. ایک دن چڑیا اور اس کا شوہر سیر کو نکلے اور گاؤں کے ایک بہت بڑے درخت پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگےوہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ چڑیا نے دور سے ایک شخص کو درخت کی طرف آتے دیکھا اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ ہم یہاں سے اڑ جاتے ہیں وہ دیکھو وہ شخص ہمارے درخت کی طرف آرہا ہے وہ ہم کو کوئی نقصان نہ دے اس لیے ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں.
 چڑیا کے شوہر نے چڑیا سے کہا کہ پریشان نہ ہوں اس شخص کو غور سے دیکھو وہ کہیں سے بھی شکاری نہیں لگ رہا وہ تو ایک عام کسان ہے اور اس نے کسانوں والے کپڑے پہن رکھے ہیں اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں وہ ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گاوہ شخص درخت کے قریب پہنچ درخت میں کچھ ڈھونڈنے لگا اور  تھوڑی  بعد تیر کمان کال کر چیڑیا کے شوہر کو مار ڈالا اس سے پہلے کہ چڑیا کچھ سمجھ پاتی ہیں تیر اس کے شوہر کو لگ چکا تھا اور وہ مر کر نیچے گر چکا تھا چڑیا اپنے شوہر کی موت پر بہت زیادہ دکھی ہوئی ہو اور اپنا مقدمہ لے کر وقت کے بادشاہ کے پاس چلی گئی اور  رو رو کر اس کو حال سنانے لگی.
 کے کیسے اس ظالم شخص نے اس کے شوہر کو مار ڈالا اور اس کی زندگی خراب کر ڈالیبادشاہ بہت رحمت دل تھا اس نے انصاف کی خاطر سخص کو بلایا اور چڑیا کا سارا معاملہ اس سے دریافت کیا او س شخص نے اپنے ظلم کا اعتراف کیا اور کہا بادشاہ میں نے واقعی اس کے شوہر کو تیر کمان سے مارا ہے
 جرم ثابت ہوچکا تھا بادشاہ نے چڑیا کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اب تم جو چاہو اس کو سزا دو چڑیا نے رو کر کہا کہ اس شخص  کے ظلم کی سزا تو موت ہی بنتی ہے لیکن اس کی موت سے میرا شوہر واپس نہیں آ سکتا اور میں نہیں چاہتی کہ اس کے بیوی بچے بھی میری طرح اذیت ناک زندگی گزارےہاں لیکن ایک سزا اسے ضرور دو گی کہ یہ اب جب بھی گھر سے باہر نکلے تو شکاریوں والی وردی  پہنے اور جو اس نے شرافت والا لبادہ اوڑھا ہوا ہے اس کو اتار دے تاکہ میرے شور کی طرح کوئی بھی اس کو ایک شریف کسان نہ سمجھے اور اپنی سادگی میں نہ مارا جائے شرافت کے لباس میں چھپا شکاری منافقت کے اعلی درجے پر ہوتا ہے۔
 اگر یہ شکاری ہے تو لباس بھی شکاریوں والا ہی پہنے شرافت کے لباس میں منافقت نہ کرے تاکہ کوئی بھی میرے شوہر کی طرح ہے اس کا شکار نہ بنےچڑیا کی یہ بات سن کر بادشاہ اور تمام درباریوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے اس شخص کو قید میں ڈال دیا اور پورے ملک میں اعلان کروایا کہ کوئی بھی شکاری عام کسان کے لباس میں نہ پھر تاکہ ہر بندے کو پتا ہو گا یہ شخص شکاری ہے اور وہ اپنی سادگی میں اس کا شکار نہ ہوجائے۔
 شرافت کے لباس میں چھپے بھیڑیے ہر معاشرے کے لئے بہت خطرناک ہوتے ہیں کسی کے میٹھے الفاظ  خوش اخلاق اور قیمتی لباس سے   دوکھا نہ کھائیںہو سکتا ہے کہ جو شخص باہر سے آپ کو بہت رحم دل نیک اور شریف لگتا ہے اندر سے وہ ایک خطرناک شکاری ہو
 اپنے معاشرے میں چھپے ایسے بھیڑیوں کو پہچانے تاکہ کوئی بھی سادہ لو ح ان کے شکار کا حصہ نہ بنے

1 تبصرے

Thanks for you

  1. kia baat ha mamo


    Humari site ko apna dosto ko share kro
    https://wwwearthfacts.blogspot.com/2021/09/lion-facts.html

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی