کچھ دن پہلے پاکستان میں ایک بہت ہی دردناک واقعہ پیش ایا جس میں کچھ عیسائی برادری کے گھروں کو اگ لگائی گئی
ان کے گرجا گھروں کو جلایا گیا اور بہت ہی زیادہ لوٹ مار کی گئی یہ سب کچھ مسجد سے ہونے والے ایک اعلان کے بعد رونما ہوا
جن لوگوں کا گھر جلایا گیا ان لوگوں میں ایک لڑکی سندس بھی شامل تھی جس کا دو مہینے بعد شادی تھی
اس کے جہیز کا سارا سامان نام نہاد مسلمانوں نے لوٹ لیا اور گھر کو بھی اگ لگا دی
کیا اسلام ہمیں یہیں تعلیم دیتا ہے کہ ایک فرد واحد کی غلطی کو پورے محلے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان کے گھروں کو اگ لگا دی جائے اور ان کی عبادت گاہوں کو اگ لگا دی جائے گی
بالکل بھی نہیں اسلام ہمیں کبھی بھی یہ تعلیم نہیں دیتا کہ ہم اقلیتوں کو اس طرح تنگ کریں یا ان کے ساتھ ظلم کریں اسلام ہمیں امن و محبت کا درس دیتا ہے اور انصاف کا درس دیتا ہے انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس شخص نے کوئی غلطی کی ہے اسی کو سزا دی جائے نہ کہ اس کی غلطی کی ساری عیسائی برادری کو سزا دی جائے یہاں پر یہ بات کہنا بہت ہی ضروری ہے کہ اس واقعے کی لازمی طور پر تحقیق کی جائے اور جو اصل حقائق ہیں ان کو سامنے لایا جائے اور جو جو اس جرم میں شریک ہیں ان کو قرار واقع سزا دی جائے
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس میں نہ تو کسی کو اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی جرات ہونی چاہیے اور نہ ہی اسلام کو استعمال کرتے ہوئے کسی کو کسی کے ساتھ ظلم کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اس واقعے کی لازمی طور پر تحقیق ہونی چاہیے اور جو حقیقت ہے اس کو سامنے لانا چاہیے اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کو واقعی سزا دینی چاہیے تاکہ ائندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو نہ کسی کو اسلام کی توہین کی اجازت ہونی چاہیے نہ شاعر اسلام کی توہین کی اجازت ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی کی مذہب کی توہین کی اجازت ہونی چاہیے
لیکن یہ بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے گھروں کو اگ لگا دی جائے ان کے گرجا گھروں کو اگ لگا دی جائے ان کو ان کے مالوں کو لوٹ لیا جائے اس قسم کے معاملات بھی نہیں ہونے چاہیے
پاکستان میں تمام ادارے موجود ہیں عدالتیں موجود ہیں پولیس موجود ہے ان کو ان کا کام کرنے دیا جائے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اس طرح تو یہ جنگل کا قانون ہو جائے گا جو شخص جس کو جو بہتر لگے گا وہ اس کے مطابق کام کرے گا اور اس کے مطابق اپنا ری ایکشن دے گا
اسلام ایک امن پسند مذہب اور دین ہے تو اس کو اسی حساب سے فالو کرنا چاہیے نہ کہ شدت پسند بنے بغیر تحقیقات کے کسی کے اوپر جرم عائد نہ کریں نہ ہی بغیر تحقیق کے کسی کے گھروں کو جلائیں کسی کی عبادت گاہوں کو جلائیں کسی کی لوٹ مار کریں لوگوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلیں ایسا کرنے والے نہ تو اسلام میں داخل ہیں نہ ہی مسلمان کہلانے کے لائق ہیں ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تحقیق کریں تاکہ ان کو پتہ چلے کہ اقلیت اسلام میں کیا حیثیت رکھتی ہے
اس طرح کے واقعات تو پڑوسی ملک میں ہوتے ہیں وہاں پر شعور نہیں ہے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں وہاں اسلام کے بارے میں زیادہ جاننے والے نہیں ہیں ایک اسلامی ملک میں اس طرح کے واقعات بہت زیادہ دردناک ہیں ان کی طرف حکومت کو توجہ دینی چاہیے اور مسلمانوں میں اقلیت کے حقوق کے حوالے سے صحیح معلومات فراہم کرنی چاہیے تاکہ مسلمان اقلیت کے حقوق کو سمجھیں اور ان کی قدر کریں اس طرح کے واقعات سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہوتی ہے مسلمانوں کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ اسلام کی بدنامی ہوتی ہے تو پلیز ایسے معاملات سے گریز کریں اور بہتر طریقہ کار اختیار کریں ملک میں تمام ادارے موجود ہیں اداروں کو اپنا کام کرتے ہیں کرنے دیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں
اخر میں اقلیت کے رہنماؤں سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھیں ان کے جذبات کی توہین نہ کریں اسلام کی توہین نہ کریں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اقلیت برادری کو اس بات کی تعلیم دیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یہاں لوگ اسلام سے محبت کرتے ہیں اسلامی کتب سے محبت کرتے ہیں اس طرح کا کوئی بھی واقعہ پیش نہ ہونے دیں جس سے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچے یا ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور اس طرح کے واقعات رونما ہوں
اگر کسی نے اسلام کی توہین کی ہے تو اسے سزا ہونی چاہیے اسے اسلام پاک اسلامی ملک پاکستان کے قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے لیکن جنہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کے املاک کو جلایا کہ جا گھروں کو جلایا ان کے مالوں کو لوٹ لیا ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے
اخر میں اقلیت برادری سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بطور
مسلمان ہم اس واقعے پر شرمندہ ہیں ہمیں اسلام نہ تو اس قسم کے تشدد کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی کسی اقلیت برادری کے ساتھ ظلم کرنے کی اجازت دیتا ہے تو پلیز اسے اسلام کے ساتھ نہ جوڑا جائے بلکہ کچھ شر پسندوں کی شرارت قرار دیا جائے اور عیسائی برادری کی طرف سے بھی ایسے معاملات کی روک دھام کی جائے جس سے مسلمان کے جذباتوں کو ٹھیس پہنچتی ہو






Very informative
جواب دیںحذف کریںHi very good
جواب دیںحذف کریںgood
حذف کریںnice good
جواب دیںحذف کریںthis is a misbehave altitude need the education
جواب دیںحذف کریںgoood
جواب دیںحذف کریں