ائی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو گالیاں نکالنے والا پولیس اہلکار پاگل نکلا

 گزشتہ دنوں پاکستان میں ایک یوٹیوبر نے رہا چلتے ایک


پولیس والے کو روکنے کی کوشش کی جو کہ بغیر نمبر پلیٹ کے موٹر سائیکل چلا رہا تھا

 اس کے بعد اس پولیس والے نے گالیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جس کو پورے پاکستان نے سنا

پولیس والے بھائی صاحب نے یوٹیوبر کے علاوہ ائی جی پنجاب اور سی   سی پی او لاہور کے بارے میں بھی ایسے ایسے القابات سے نوازا

 کہ پورے پاکستان کی عوام نے دل ہی دل میں اس پولیس والے کو خراج تحسین پیش کیا

سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ ویڈیو منٹوں میں ہی وائرل ہو گئی اور مجبورا ائی جی پنجاب صاحب کو اپنا موقف دینے کے لیے سامنے انا پڑا

 ائی جی پنجاب کے موقف کے مطابق یہ پولیس والے بھائی صاحب ذہنی طور پر  معذور ہیں بطور اے جی پنجاب کے یہ بھائی صاحب کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف اپریشن کرتے ہوئے پولیس وین کے پلٹنے سے سر پر چوٹ لگنے سے ذہنی طور پر معذور ہو گئے تھے



یہ بھائی صاحب 15 دنوں سے ڈیوٹی سے بھی غیب تھے اگر محض گالیوں کے ادا کرنے کے طریقہ کار پر ہی سوال کیا جائے تو پاکستان کی تقریبا 90 فیصد پولیس ذہنی طور پر معذور شمار ہوگی لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے


18 18 گھنٹے ڈیوٹی کرنے والی پاکستانی پولیس ذہنی ڈپریشن کا شکار ہے پاکستانی پولیس دنیا کی واحد پولیس ہے جو بیک وقت کئی محازوں پر لڑ رہی ہے سیاسی  جنگ نے پولیس کو بہت ہی زیادہ مشکل میں ڈال رکھا ہے سیاسی جماعتوں کے خلاف لانگ مارچ والوں کے خلاف چوری ڈکیتی بم دھماکے قتل و غارت جیسے مسائل میں الجھی پولیس ذہنی طور پر بہت ہی زیادہ اذیت میں ہوتی ہے

ان کی تنخواہ اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور پاکستانی عوام کی گالیاں ان کو بونس میں ملتی ہیں ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ پولیس کی طرف خاص توجہ دی جائے اور ان کی بنیادی ضروریات اور سہولیات کو پورا کیا جائے

https://tarekhiwqiyat.blogspot.com/2023/12/face-book-group.html

1 تبصرے

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی