حلوہ عربی حروف والے کپڑے اور لاہور واقعہ

 



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ. اج کل سوشل میڈیا پہ

 ایک مسئلہ بہت ہی زیادہ وائرل ہوا ہوا ہے. لاہور کے ایک علاقے اچھرا میں ایک عورت نے عربی ڈیزائن والے کپڑے پہنے ہوئے ہیں. جسے دیکھ کر لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ قرانی ایات والے کپڑے ہیں اور اس عورت نے قران پاک کی بے حرمتی کی ہے. بات یہاں تک بڑھ گئی کہ وہ لوگ اس عورت کو مارنے تک پہنچ گئے. ویڈیو اور تصاویر میں وہ عورت بہت ڈری ہوئی نظر ارہی ہے اور رو رہی ہے. اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کیا کسی کو مارنا یا کسی پر تشدد کرنا وہ بھی مذہب کے نام پر کیا اتنا اسان ہے. بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کیے اور اصل معاملے کو جانے بنا کسی پر تشدد کرنا یا اپنی رائے کسی دوسرے پر تھوپنا کہاں کا انصاف ہے




اس تمام واقعے میں پولیس نے اپنا کردار اچھی طرح سے ادا کیا اور ہجوم سے اس عورت کو نکال کر تھانے لے گئی. لیکن تھانے جا کر عرسے معافی منگوائی جا رہی ہے وہ بھی اس کام کے لیے جو اس نے کیا ہی نہیں. معافی کے اصل حقدار تو وہ لوگ تھے جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے اس پر اس طرح کا الزام لگایا. جو یہ تک نہیں پڑھ سکتے کہ جو کپڑے اس عورت نے پہنے ہوئے ہیں اس پر کیا لکھا ہوا ہے یہ لوگ قران کی ایات سے بھی واقف نہیں. نہ ہی ان لوگوں کو عربی زبان کی سمجھ ہے.  تو معافی ان لوگوں کو ماننی چاہیے جو لوگ بغیر سوچے سمجھے اپنی  کم علم کی وجہ سے اس طرح کا شور کر رہے ہیں. اصولا یہ بنتا تھا کہ جو علماء کرام تھانے میں بیٹھ کر اس عورت سے معافی منگا رہے ہیں ان کو معافی مانگنی چاہیے تھی اس عورت سے کہ بیٹا ہم سے غلطی ہو گئی ہم نے بغیر سوچے سمجھے تحقیق کیے اپ پر الزام لگایا ہم عربی زبان زیادہ نہیں جانتے اس لیے ہم سے 

غلطی ہو گئی ہم اپنی  کم علمی کی معافی مانگتے ہیں

اگر صرف عربی حروف کی بنا پر ہی توہین مذہب یا توہین



قران یا توہین اسلام کو مانا جائے تو لفظ خنزیر فرعون بیت الخلاء اور اس طرح سے بہت سے دوسرے الفاظ ہیں جو قران شریف میں   بہت بار استعمال ہوئے ہیں. اسی طرح شیطان ابلیس منافق کافر مکار ایسے بہت سے الفاظ ہیں جو اپنے اصل معنی میں الگ ہیں لیکن کیونکہ یہ قران شریف میں بار بار جگہ پر ائے ہیں تو کیا ہم ان کی تہذیب کریں ان کی تکریم کریں. الفاظ کو الفاظ کے معنی تک ہی رکھا جائے اور اس میں سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے. اور جس لباس کے بارے میں اتنا پروپگنڈا کیا جا رہا ہے وہ عرب ممالک میں ایک نیا فیشن ہے اور عام ہے. بجائے اس کے کہ علماء کرام ایک نہتی بے بس اور مجبور عورت سے معافی منگانے کے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگیں اور قوم کو بتائیں کہ اس طرح کے الفاظ اور اس طرح کے لباس سے نہ تو اسلام کی توہین ہوتی ہے نہ ہی قران کی. قران پاک جیسی مقدس کتاب کا موازنہ ہی ان چیزوں سے کرنا اپنے اپ میں ایک بہت بڑی گستاخی ہے. اگر علماء کرام نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کل یہ فرعون ابلیس شیطان منافق کے نام پر بھی توہین مذہب کا فتوی جاری ہوگا. ہم یہاں پر بہت سے لباس کے ڈیزائن جن پر حروف تہجی عربی حروف تہجی لکھے ہوئے ہیں شیئر کر رہے ہیں. جو کہ نعوذ باللہ قران پاک کی بے حرمتی نہیں اور نہ ہی مذہب اسلام کی توہین ہے بلکہ ایک طرح سے یہ عربی لینگویج کی  ترویج ہے. تو خدا کے لیے تعصب سے نکلیے اور پورا سوچیے







ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی