|
مدعی نے کہا اے اللہ کے نبی میں اس معاملے میں بالکل سچا ہو اور میرا بیان بالکل صحیح ہے لیکن اس واقعے سے قبل میں نے اس مدعی علیہ کے باپ کو قتل کر دیا تھا اور اس کی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا
یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے اس کی جائیداد مال و دولت مدعی علیہ کے حوالے کردیں
اور اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا
ایک دن حضرت داؤد علیہ السلام اپنے گھر خوش وخرم بیٹھے ہوئے تھے کہ کمرے کی دیوار توڑ کر دو شخص داخل ہوئے حضرت داؤد چونک کر اٹھے اور پوچھا کون ہو تم لوگ انہوں نے کہا اے داؤد ڈرو مت ہم تمہارے پاس انصاف کے لیے آئے ہیں ہمارے درمیان انصاف کرو حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا ضرور انصاف کروں گا اپنا ماجرا سناو تاکہ میں انصاف کر سکو بات سچی اور کھری کرنا تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو سکے اس پر ایک شخص بولا اے اللہ کے خلیفہ یہ شخص جو میرے ساتھ آیا ہے میرا بھائی ہے اور صاحب اختیار ہے اس کے پاس ننانوے بکریاں موجود ہیں اس کے باوجود یہ میری ایک بکری زبردستی چھین لینا چاہتا ہے انصاف کیجئے یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے مخالف سے پوچھا کیوں میاں کیا یہ بات سچ ہے یا غلط صحیح صحیح بات کرو تاکہ میں کسی نتیجے پر پہنچ سکوں اور تم دونوں مجھ سے جو توقع رکھتے ہو وہ پوری کر سکوں وہ بولا اے داؤد میرا بھائی سچ کہتا ہے لیکن اس کی بکری پر میرا دل اگیا ہے میں ہر قیمت پر اس کی بکری حاصل کرنا چاہتا ہوں اور وہ میں ضرور کروں گا یہ سن کر حضرت داؤد نے اس شخص سے کہا اس شخص تم بہت ظالم ہو تم اپنے بھائی کی ایک بکری بھی زبردستی چھین لینا چاہتے ہو اس پر وہ دونوں جو دراصل فرشتے تھے مسکرا کر کہنے لگے اے داؤد باوجود اس کے کہ تیری ننانوے بیویاں موجود تھی تو نے اوریا کی بیوی سے نکاح کر لیا اور پوری ایک سو عورتوں کو اپنے حرم میں بٹھا لیا ہم درحقیقت بکری کا بہانہ کر کے تمہیں بتانے آئے ہیں کہ درحقیقت تم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے یہ کہہ کر دونوں فرشتے غائب ہوگئے حضرت داؤد علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت نادم ہوئے چالیس دن تک مسلسل سجدے میں پڑے توبہ استغفار کرتے رہے تب باری تعالیٰ نے فرمایا داود اپنا سر سجدے سے اٹھا لو ہم نے تیری خطا کو معاف فرمایا
یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام نے سجدے سے سر اٹھایا ایک ایسی آہ ماری کےپاس کی ساری گھاس جل گئی اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوا کہ فورا اور یا کی قبر پر جا کر معافی مانگو تاکہ قیامت کے روز وہ تجھ سے باز پرس نہ کرے حضرت داؤد علیہ السلام یہ سن کر اوریا کی قبر پر پہنچے اور اسے آواز دی حضرت نے تین بار
تیسری بار پکانے پر قبر کے اندر سے آواز آئی کون ہو جو بار بار پکارتے ہو اور میری نیند خراب کرتے ہو بولو کیا بات ہے کیوں پھکا رتے ہو اس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا اے اور یا میں داؤد ہو اور تجھ سے معافی مانگنے آیا ہوں مجھے معاف کر دے
اے اللہ کے نبی آپ نے مجھے جہاد پر بھیجا تھا مجھے شہادت کی تمنا تھی سو میں شہید ہو جنت میں داخل ہوا میں جنت میں بڑے آرام سے ہوں اور مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل اور کرم ہے خاطر جمع رکھیے جائے میں نے آپ کو معاف کیا
⚠️ اہم وضاحتی نوٹ
اس تحریر میں بیان کیا گیا واقعہ مستند اور صحیح احادیث سے براہِ راست ثابت نہیں ہے بلکہ یہ بعض تفسیری کتب اور تاریخی روایات (جنہیں اسرائیلی روایات بھی کہا جاتا ہے) میں ذکر ہوا ہے۔ ان روایات کی صحت پر علماء کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے انہیں قطعی حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں سمجھا جاتا۔.
اس کا مقصد صرف اخلاقی سبق، عدل و انصاف کی اہمیت، توبہ، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اجاگر کرنا ہے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ دینی عقائد، ایمان اور شرعی احکام کی بنیاد ہمیشہ قرآنِ مجید اور مستند احادیث پر رکھیں۔ اس قسم کے واقعات کو عبرت اور نصیحت کے پہلو سے دیکھا جائے، نہ کہ عقیدے کی بنیاد بنایا جائے۔
اگر کسی جگہ الفاظ یا اندازِ بیان سے غیر ارادی طور پر کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہو تو اس پر ہم اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہیں۔