.
ایک دفعہ دو دیہاتی اپنا.
جھگڑا لے کر انصاف حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے ۔حضرت داؤد نے سارا ماجرہ دریافت فرمایا ان میں سے ایک نے بیان کیا اے اللہ کے نبی نے اس شخص کی بکریوں نے میرا کھیت یعنی پکی ہوئی فصل تباہ و برباد کر دی ۔آپ انصاف کیجئے اور میرا نقصان پورا کروائے مہربانی ہوگی۔ آپ نے دوسرے شخص سے بھی پوچھا کیوں بھائی بولو کیا یہ شخص سچ کہتا ہے۔ اس نے کہا حضرت میں اس کے کھیت کے قریب میدان میں بکریاں چرا رہا تھا دوپہر کا وقت تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا کہ میری بیوی میرے لیے کھانا لے کر آئیں میں نے کھانا کھایا وہ برتن لے کر چلی گئی اور مجھے نیند آگئی میں وہیں سو گیا اسی دوران بکریاں اس کے کھیت میں گھس گئی اور جب تک میں اٹھتا اس کی ساری فصل کھا گئی ۔اب انصاف آپ کے ہاتھ میں ہے لیکن میں ایک غریب آدمی ہوں اس کا نقصان پورا نہیں کر سکتا رحم کیجئے اور مجھے معاف کر دیجئے ۔حضرت نے کھیت والے سے فصل کی قیمت پوچھی اور پھر بکریوں کی قیمت دریافت فرمائیں
موازنہ کیا تو دونوں کی قیمت برابر ہی نکلی ۔اس پر آپ نے فرمایا کیوں کے کھیت والے کا نقصان بکریوں کی قیمت کے برابر ہے اس لئے انصاف یہ ہے کہ کہ کہیت والا تمام بکریاں اپنے قبضہ میں لے لے اور اپنا نقصان پورا کرے کے یہی انصاف اور فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ سن کر بکری والے کی سیٹی گم ہوگئی اور روتا ہوا دربار سے نکل آیا جو ہی وہ دروازے سے باہر نکلا دروازے کے باہر حضرت سلیمان علیہ السلام بیٹھے تھے اس وقت آپ کی عمر سات سال تھی آپ نے بکریوں والے کو روک لیا اور رونے کا سبب پوچھا بکریوں والے نے سارا ماجرہ حضرت سلیمان کو سنایا اور رونے لگا حضرت سلیمان نے اسے کہا کہ مت کرو اور مجھے سوچنے دو پھر حضرت سلیمان کچھ دیر تک سوچتے رہے اور بکریوں والے سے کہا دیکھو تم حضرت داؤد کے پاس دوبارہ جاؤ اور کہو اے خلیفہ خدا اگر آپ میرے مقدمے پر غور فرمائیں اور توجہ فرمائیں تو پھر اس غریب کے حق میں بہتر ہوگا۔ وہ شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کے کہنے کے مطابق دوبارہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس پہنچا حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا اب کیا بات ہے فیصلہ ہو چکا ہے اور یہی انصاف ہے اس شخص نے کہا حضور گزارش یہ ہے کہ آپ ذرا غور کرکے انصاف کریں تو مجھ غریب کے حق میں بہتر ہوگا حضرت داؤد علیہ السلام نے کچھ دیر سوچا اور پھر پوچھا اے۔ شخص سچ بتا تجھے یہ بات کس نے سکھائی
اس نے سچ بولتے ہوئے کہا کہ اللہ کے نبی مجھے یہ بات آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے سکھائی ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دربار میں بلوا لیا آپ نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے پوچھا تم نے اس شخص کو واپس کیوں بھیجا۔ آپ نے کہا کہ اے اللہ کے نبی آپ اگر غور فرمائیں تھوڑی توجہ فرمائے تو اس غریب شخص کو بہتر انصاف مل سکتا ہے سب کی بہتری اسی میں ہے اور اللہ تعالی بھی اسی میں راضی ہوگا حضرت داؤد علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے کی بات سن کر متعجب ہوئے اور اسے غور سے دیکھنے لگے پھر فرمایا اے پیارے بیٹے تو کیا چاہتا ہے کہ انصاف کیسے ہونا چاہئے۔ اور کسی کی حق تلفی نہ ہو حضرت سلیمان نے کہا ابا حضور میرے خیال میں انصاف یہ ہے کہ فصل والے کو بکریاں فصل تیار ہونے تک دے دیں۔ اور بکریوں والا اس کی فصل تیار کریں۔ اتنی دیر یہ ان بکریوں کا دودھ بیچے اور ان سے فائدہ حاصل کرے جب اس کی فصل تیار ہو جائے تو یہ بکریاں واپس کر دے کہ اس دوران بکریوں کی اون اور دودھ سے اس کا نقصان پورا ہوچکا ہوگا اور یہی بہتر فیصلہ ہے۔ اگر آپ غور کریں۔ یہ کہہ کر حضرت سلیمان ادب سے بیٹھ گئے یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام بہت خوش ہوئے انہوں نے اپنے مشیروں سے رائے معلوم کی مشیروں نے بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے فیصلے کو پسند کیا۔ اس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے ایسا ہی کیا بھیڑ بکریوں والا خوش ہوگیا اور دعائیں دیتا ہوا گھر لوٹ گیا کھیت والا بھی بہت خوش ہوا اور وہ بھی خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ گیا۔حضرت داؤد علیہ السلام ایسے پیغمبر تھے جن کو اللہ تعالی نے نبوت کے علاوہ بادشاہت بھی عطا فرمائی اس وقت آپ کی قوم کا حکمران طالوت تھا طالوت کی زندگی ہی میں عمالقہ کے ساتھ جنگ کے دوران عمالقہ کا کا سردار جلوت حضرت داؤد کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ طالوت کی موت کے بعد حکومت داؤد کے ہاتھ آ گئی ۔اپ کی قوم میں یہ دستور تھا کہ حکومت ایک خاندان میں تھی اور نبوت دوسرے خاندان میں یہ دستور قدیم تھا اس وقت یہودہ کے گھرانے میں نبوت تہی اور افرایم خاندان میں حکومت و سلطنت۔ اللہ تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام پر زبردست انعام کیا کہ آپ کو بادشاہت بھی عطا فرمائے اور نبوت سے بھی سرفراز فرمایا وہ خدا کے پیغمبر بھی تھے حکمران بھی تھے رسول بھی تھے حضرت داؤد علیہ السلام شجاعت و سیاست رائے فکر و عمل اور صاحب تدبیر ہونے کے لحاظ سے ایک مکمل انسان تھے ۔خدا کا فضل ان کے شامل حال تھا فتح نصرتان کے گہر کی لونڈی تہی بلاشبہ حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت ایک عظیم حکومت تھی ان کا لشکر عظیم تھا اور سلطنت بہت وسیع تھی تھی کہ دشمن ان کے سامنے زیر و زبر ہو جاتے تھے
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

Very very nice
جواب دیںحذف کریں