حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شام کا سفر

 شام کا سفر

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر بارہ برس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب تجارت کی غرض سے ملک شام جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ساتھ لے لیا

حرب فجار میں شرکت


جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 15 برس کے ہوئے تو اس وقت عرب کے دو قبیلوں بنو قریش اور قبیلہ بنو قیس میں جنگ چھڑ گئی جسے حرب فجار کہتے ہیں۔
 اس جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی شرکت کی کیونکہ آپ بہت رحم دل تھے اس لئے اس جنگ میں آپ نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور اپنے قبیلے کے ساتھ رہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ حق پر تھا

حلف الفضول میں شرکت

قریش کے لوگ آئے دن لڑائیوں سے پریشان تھے اس لیے انہوں نے ایک معاہدہ کیا کہ امن و امان قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور غریبوں بے کسوں اور مظلوموں کی مدد کیا کریں گے اس معاہدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی شرکت کی۔
 عربی زبان میں معاہدے کو حلف کہتے ہیں اور اس معاہدے کے بانیوں کے ناموں میں اتفاق سے فضل کا لفظ تھا جس کی جمع فضول آتی ہے جس کی وجہ سے یہ حلف الفضول کہلایا  یعنی ایسا معاہدہ جوفضل نام کے آدمیوں کے درمیان ہوا

تجارتی سفر

جوان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے خاندان کے باقی لوگوں کی طرح تجارت کا پیشہ اختیار کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کا مال لے کر شام اور یمن جاتے تھے.
 لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچائی اور امانت داری سے بہت متاثر ہوئے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صادق اور امین کا لقب دیا

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی