قصہ حضرت داؤد علیہ السلام

 



ایک دفعہ حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم نے کہا اے اللہ


کے نبی ہم  قیامت کے دن کا حال آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں یقین ہو اور ہم عبرت حاصل کر سکیں حضرت داؤد علیہ السلام سوچ میں پڑ گئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے لگے

 ایسے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا اے نبی اللہ ان سے کہہ دیجئے کہ عید کے روز انہیں محشر کا حال دکھا دیا جائے گا

حضرت داؤد علیہ السلام کے دربار کا منظر جہاں ایک بیوہ عورت، اس کا بیٹا اور ایک امیر شخص انصاف کے لیے موجود ہیں، اسلامی تاریخ کے عدالتی واقعے کی نمائشی تصویر

 حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم میں ایک شخص بہت مالدار اور طاقتور تھا اس کے پاس ایک زرد رنگ کی خوبصورت گائے تھی وہ شخص اپنی گائے کو سجا بنا کر اس کے جسم پر مخمل کی خوبصورت چادر ڈال کر اسے میدان میں چھوڑ دیا کرتا تھاوہاں اس کا یہ دستور تھا کہ روزانہ گاۓ ادھر ادھر کے کھیت چرتی اور فصل خراب کرتی لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ گائے کو روک لیتا یا اس کے مالک سے باز پرس کر لیتا کیونکہ وہ نہایت طاقتور شخص تھا اس کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہ  دیکھتا

 اسی جگہ ایک بیوہ عورت بھی رہتی تھی اس کا ایک بیٹا بھی تھا دونوں آبادی سے دور جنگل میں رہتے اور بڑے عبادت گزار اور پرہیزگار تھے وہ ہر وقت خدا کی عبادت میں مصروف رہتے ان کے گھر کے قریب ایک چشمہ میٹھے پانی کا بہتا تھا جس کا پانی صاف اور شفاف تھا چشمے کے قریب انار کا ایک درخت لگا ہوا تھا جس میں اللہ کے حکم سے  روزانہ دو انار لگتے  تھے

 دونوں ماں بیٹا انار کھاتے اور خدا کا شکر ادا کیا کرتے تھے اور پھر عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے ان کا روزانہ معمول یہی تھا اور وہ اسی میں مگن اور خوش تھےان کا یہ دستور بہت عرصے سے جاری تھا ارد گرد کے لوگ بھی ان کا بے حد احترام کرتے اور ان کی ہر طرح سے عزت کرتے تھے

 ایک دن لڑکے نے ماں سے کہا اے ماں شہر کے بازاروں میں تو بہت رونق  ہوتی ہوگی ماں نے کہا ہاں بیٹا بازاروں میں بہت سے دوکانیں ہوتی ہیں جن میں بہت سی کھانے پینے کی چیزیں ہوتی ہیں اور ضرورت کی ہر چیز کپڑا روٹی سبزی وغیرہ مل جاتی ہے یہ سن کر لڑکے کا جی للچا گیا کہنے لگا ماں میں تو بازار جاؤں گا



وہاں ہر قسم کی چیزیں کھاؤ گا یہ انار کھا کر میرا دل بھر گیا ہے بیوا ماں نے یہ سن کر کہا نہ بیٹا ہم عبادت گزار لوگ ہیں ہمیں دنیا سے کچھ لینا دینا نہیں اللہ ہم سے راضی ہے دیکھ ہمیں اس نے اپنی نعمتوں سے نواز رکھا ہے ہمیں صاف شفاف میٹھے پانی کا چشمہ اور کھانے کے لیے انار کا درخت دے رکھا ہے جس پر روزانہ دو انار ہمارے کھانے کے لئے پیدا کرتا ہے ہمارا خدا ہمیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے پرورش کر رہا ہے ہمیں اور کچھ نہیں چاہئے جو اللہ کی طرف سے مل رہا ہے کافی ہے اور اللہ کا شکر ادا کر ہم بہت غریب ہیں شہر میں خرچ کرنے کے لئے روپیہ کہاں سے لائیں گے صبر اور قناعت کر لالچ اور طمع بہت بری لعنت ہے اور اللہ کو بالکل بھی پسند نہیں لیکن لڑکا ضد کرنے لگا کہ میں نے تو کچھ اور کھانا ہے اسی دوران ماں نے درخت کی طرف دیکھا تو انار غیب پائے اور ادھر چشمے کا پانی بھی سوکھ گیا ماں بہت پریشان ہوئی اور رونے لگی لڑکا بھی اپنی ضد پر بہت پشیمان ہوا اور توبہ استغفار کرنے لگا ماں نے کہا بیٹا تمہاری ناشکری بے صبری اور لالچ کی وجہ سے اللہ نے جو روزی ہمیں باندھ رکھی تھی واپس لے لی لالچ ہرگز نہ کرنا یہ کہہ کر وہ پھر عبادت میں مصروف ہوگئی دونوں ماں بیٹا ایک دن اور ایک رات ہر چیز بھول کر عبادت الہی میں مصروف رہے اور توبہ استغفار کرتے رہے ایک دن وہ عبادت کر رہے تھے کہ وہ زرد رنگ کی گاۓجسے اس امیر آدمی نے سجا بنا کر چھوڑ رکھا تھا ان کے سامنے آکر بیٹھ گئی پھر اسے قوت گویائی مل گئی اور وہ کہنے لگی

 اے اللہ کے نیک بندوں تم ایک دن اور ایک رات کے بھوکے پیاسے ہو اللہ نے مجھے تمہارے لئے بطور خاص رزق حلال بھیجا ہے میں حلال روزی ہوں مجھے ذبح کروں اور اپنی بھوک مٹاؤ جلدی کرو لڑکا بہت خوش ہوا اور چھری تیز کرنے لگا لیکن ماں نے بیٹے کو سمجھایا اے بیٹا پہلے بھی تمہاری وجہ سے اللہ نے اپنی رضا بدل ڈالی اور ہم سے اپنی نعمتیں واپس لے لی اب جلدی نہ کر یہ گائے ہمیں کسی گناہ میں مبتلا کرنا چاہتی ہے صبر اور قناعت کر کے اللہ ہمارا رازق اور مالک ہے وہی ہمارے لئے بہتر کرے گایہ کہہ کر اس نے گائے کو  بھگانا چاہا لیکن گائے اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی بیوہ عورت اور بیٹے نے بہت کوشش کی لیکن گائے وہیں لیٹ گئی اور اپنی گردن آگے کر کے کہنے لگی  اے مومنوں مجھے اللہ بزرگ و برتر نے تمہارے لیے حلال رزق کر کے بھیجا ہے مجھے اس کے نام پر ذبح کرو اور کھاؤ کے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں یہ حکم الہی ہے

 دونوں ماں بیٹا حکم الہی سن کر مجبور ہو گئے اور گائے ذبح کر ڈالی اور گوشت بھون کر کھانے لگے

 اب جب شام تک گائے واپس نہ آئی تو اس کے مالک کو تشویش ہوئی کے گائے کہاں چلی گئی اوس نے ہر طرف گائے کو تلاش کروایا لیکن گائے کہیں ہوتی تو ملتی اس نے تھک ہار کر ہر طرف سے اعلان کروایا کہ گائے کا نشان بتانے والے کو انعام دیا جائے گا بہت سے کھوجی گاۓ ڈھونڈنے نکل پڑے ایک بوڑھی عورت پھرتی ہوئ بیوہ عورت کے مکان کی طرف نکلا آئ

 دور سے اس نے گھر کے اندر سے دھواں نکلتے دیکھا وہ حیران ہوئی کے یا الہی یہ لوگ تو الگ تھلگ عبادت گزار ہیں انہوں نے تو کبھی کچھ نہیں کھایا یہ آج آگ کہاں اور کیسے جلا رہے ہیں وہ تھوڑی دیر بعد گھر کے قریب پہنچی تو اسے گوشت بھوننے کی خوشبو آئی

 اس کی حیرانگی اور بڑھ گئی وہ گھر میں گھس گئی اس نے دیکھا کہ ماں بیٹا دونوں گوشت بھون رہے ہیں اور مزے لے لے کر کھا رہے ہیں بیوا نے اس کو دیکھا وہ گھبرا گئی اور گھر کے اندر کمرے میں چلی گئی وہ عورت بہت چلاک تھی اس کے پیچھے ہی چلی گئی وہاں  اس نے گائے کا گوشت اور کھال دیکھی اور الٹے قدموں واپس چلی گئی اس کے جانے کے بعد ماں نے گھبرا کر بیٹے سے کہا اے بیٹا کتنے عرصے سے ہم لوگ آبادی سے دور الگ تھلگ اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں اور ہمارا گزارا اسی کے دئیے ہوئے رزق حلال پر تھا لیکن تمہارے لالچ اور حرص میں مجھے گناہ گار کر دیا معلوم نہیں یہ گائے کس کی تھی اب ہمیں رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ملنا یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگی اور اللہ کے حضور توبہ استغفار کرنے لگی وہ چلاک عورت گائے کے مالک کے پاس پہنچی اور سارا ماجرا کہا وہ بھاگا بھاگا حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس پہنچا اور مقدمہ دائر کردیا حضرت داؤد علیہ السلام نے دونوں ماں بیٹے کو بلوا لیا اور کہا اے بی بی سچ سچ کہو اصل قصہ کیا ہے

 اس پر دونوں باپ بیٹے نے روتے روتے گائے کے آنے کا پورا حال حضرت داؤد علیہ السلام کو سنایا یہ سن کر گائے کا مالک غصے سے بولا تم دونوں جھوٹے اور مکار ہو دوکہے باز ہو بھلا بے جان جانور کیسے گفتگو کر سکتا ہے یہ سراسر غلط بیانی ہے

 حضرت داؤد علیہ السلام نے ماں بیٹے کی سچائی جان لیں انہوں نے کہا اے شخص اللہ کے حکم پر جاندار تو کیا پتھر بھی بول پڑتے ہیں کہ اللہ کا کوئی اندازہ نہیں تم ایسا کرو کہ اپنی گائے کی قیمت مجھ سے لے لو بولو کیا قیمت ہے لیکن وہ شخص کہنے لگا اے داؤد میں تو ان سے قصاص لوں گا اس کے علاوہ میرا اور کوئی مطالبہ نہیں کہ وہ گائے مجھے بہت عزیز تھی اس کے خون کی قیمت ہر گز نہیں لوں گا مجھے قصاص ہی چاہیے۔        

اتنے میں حضرت جبریل علیہ السلام آگئے اور انہوں نے حضرت داؤد علیہ السلام سے کہا کہ اس شخص سے پوچھئے کہ وہ وقت یاد کرے جب یہ ایک بہت بڑے سوداگر کا ملازم خاص ہوا کرتا تھا وہ سوداگر اس پر بہت بھروسہ کیا کرتا تھا اس نے چلا کی سے اس سوداگر کو قتل کر دیا اور اس کا سارا مال لے جاکر مصر بیچ ڈالا اور خود شام چلا گیا اب بہت عرصے بعد ہی واپس آیا ہے کہ یہاں اب اس کو پہچاننے والا کوئی نہیں جس سوداگر کو اس نے قتل کیا تھا وہ اس بیوہ عورت کا شوہر تھا اور اس لڑکے کا باپ تھا اس کا جتنا بھی مال ہے وہ سب اسی بیوہ عورت اور اس لڑکے کا ہے اس کا اپنا ذاتی کچھ بھی نہیں حضرت داؤد نے جب اس شخص سے سچ بات کہنے کو کہا تو یہ شخص مکر گیا تب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اشارہ کیا اور اس شخص کی زبان بند ہوگئی اور اس کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں بولنے لگی۔ ہاتھوں  نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے ہمارے ذریعے اس شخص کا گلا  کاٹا تھا آنکھوں نے کہا ہم نے یہ واقعہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے پاوں نے کہا ہم اس شخص کی طرف بڑھے تھے جس کو اس نے قتل کر دیا تھا حضرت داؤد علیہ السلام نے قوم کو نصیت کرتے ہوئے کہا حشر کے دن یہی ہوگا کہ جن ہاتھ پاؤں سے  تم برے کام کرو گے قیامت کے دن وہ تمہارے خلاف گواہی دیں گے جیسا کہ تم دیکھ چکے ہو داؤد علیہ السلام نے سارا مال مویشی دولت اس بیوہ عورت اور لڑکے کو دے دیے اور قاتل کو سزائے موت سنائی اور قصاص لینے کے لئے اس قاتل کو جلادوں کے حوالے کیا ماں بیٹے نے سجدہ شکر ادا کیا اور سارا مال راہ خدا میں دے دیا اور دونوں اپنی عبادت گاہ میں واپس چلے گئے




اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی