منگول جو عالم اسلام پر قہر

Photo by PhotoMIX Company from Pexels



 منگول قہر کی طرح مسلمانوں پر چھ 
ئے ہوئے تھے منگولوں کا لشکر مسلمانوں کو چن چن کر ہلاک کر رہا تھا ہر طرف موت برس رہی  تھی اور منگول قہر خداوندی کی طرح مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے تھے انہوں نے بخارا سمرقند  نیشاپور ہرات رے بغداد اور دیگر بے شمار شہروں اور قصبوں کو تاخت و تاراج کرکے جلا کر راکھ کر دیا تھا وہاں کے باشندوں کو انہوں میں اپنے تلواروں کی دھار پر رکھ لیا تھا اس قتل عام میں مرد بوڑھے بچے عورتیں بیمار اور معذور بھی شامل تھے جو لوگ قتل ہونے سے بچ گئے انہیں غلام بنا لیا گیا ہر طرف کشت و خون جاری تھا منگولوں پر وحشت سوار ہو چکی تھی ان کی تلواریں مسلمانوں کے خون سے نہا رہی تھی پہلے تو چنگیز خان مسلمانوں پر لشکر کشی کرتا رہا پھر اس کا پوتا ہلاکو خان مسلمانوں پر قہر کی طرح ٹوٹ پڑا اس نے ایک لشکر جرار کے ساتھ عالم اسلام پر یلغار کردی اور عباسی خلیفہ کی خلافت کو خاک میں ملا کر رکھ دیاہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی مسلمانوں کے تمام کتب خانے برباد کر دیئے عباسی خلیفہ کو قتل کردیا عباسی خلیفہ کے قتل سے کہرام مچ گیا خلیفہ کے قتل کے بعد ہلاکو خان لشکر لے کر عراق کے دیگر شہروں کی طرف بڑھا تباہی بربادی خونریزی اور جہالت لاتے ہوئے ہلاکو خان کا لشکر آگے بڑھنے لگا اور چند ہی دنوں میں انہوں نے الریا نصیینین اور حران کے بعد رونق شہروں کو برباد کر کے رکھ دیااس دور میں پہلے تو چنگیز خان مسلم علاقوں پر یلغار کرتا رہا اور انہیں برباد کر کے ملیا میٹ کر دیا بعد ازاں اس کا پوتا ہلاکوخان عالم اسلام قہر بن نازل ہوا اس نے عباسی خلافت کو تار تار کر کے رکھ دیا اور خلیفہ وقت کو قتل کردیا تھا شہر بغداد کا تباہ ہونا اور خلیفہ کا قتل ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں عباسی خلیفہ عالم اسلام میں روحانی طور پر پورے عالم اسلام میں خلیفہ تصور کیا جاتا تھا اور بڑے بڑے حکمران اور فاتحین اس کے آگے سر نگیں رہتے تھے اس سے خلعت اور سندھ حکومت حاصل کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھےہلاکو خان بغداد اور عراق کے دیگر شہروں پرلشکر کشی کرنے کے بعد شام کی سرزمین میں داخل ہوا اس نے وہاں بھی لرزہ خیز کی تاریخ رقم کی اب منگول شام اور عراق میں دندناتے پھر رہے تھے اور ان کی نگاہیں مصر کی طرف تھی اب وہ شام کو فتح کرنے کے بعد فلسطین سے ہوتے ہوئے مصر کی طرف بڑھنا چاہتے تھے منگولوں کے حوصلے بڑھ چکے تھے وہ شام کو پامال کرتے ہوئے فلسطین میں وارد ہوئے فلسطین میں قدم جمانے کے بعد مصر کی طرف دیکھنے لگے فلسطین اور مصر کے درمیان ایک چھوٹا سا ریگستانی ٹکڑا صحرائے سینا حائل تھا یہ منگولوں کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں تھا منگولوں کو پختہ یقین تھا کہ وہ اس چھوٹے سے صحرا کو عبور کر کے فرعون کی سرزمین مصر پر آسانی سے قبضہ جما سکتے ہیں جب فلسطین میں اپنے قدم مضبوط کرنے کے بعد ہلاکو خان نے مصر کا رخ کرلیا اس نے لشکر کشی سے پہلے سلطان مصر کو ایک خط لکھایہ خط غرور سے بھرا تھا خط میں لکھا تھا کہ



 یہ اس کا فرمان ہے جو ساری دنیا کا بادشاہ ہے اپنے شہر پناہ گاہیں ہمارے حوالے کر دو اطاعت قبول کر لو اور ایسا کرو گے تو تمہیں امن اور چین سے زندہ رہنے دیا جائے گا اگر تم نے یہ بات نہ مانی تو پھر تم کو جو کچھ پیش آئے گا وہ بلند و بالا اور جادوانی عثمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا



 منگولوں کا عقیدہ روح پرستانہ تھا ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات کی ہر شے ایک روح رکھتی ہے نیک اور بد روحوں کو انسانوں کی زندگی میں بڑی حد تک غلبہ حاصل ہے جادوانی بلند و بالا آسمان کی روح ان کے ہاں سب سے بڑی اور طاقت ور خیال کی جاتی تھی اس لئے وہ اس کی قسم کھایا کرتے تھےہلاکو خان کا خط لے کر اس کے کا قاصد مصر میں داخل ہوئے کیونکہ ابھی تک کسی مسلمان حکمران نے ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم نہیں ڈالا تھا وہ طاقت کے نشے میں بدمست اور چور تھے اور خود کو دنیا کا فاتح سمجھتے تھے اس لئے وہ اکڑ کر چل رہے تھے یہ رویہ برا گستاخانہ تھا انہوں نے ہلاکو خان کا خط مصر کے بادشاہ کے سامنے پھینک دیا یہ دیکھ کر بادشاہ کی آنکھیں سرخ ہو گئی تاہم اس نے کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا اور صبر و ضبط سے کام لیا اس وقت اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا اس کے وزیروں میں ایک بہادر وزیر سلطان رکن الدین بیبرس بھی قریب بیٹھا ہوا تھا اس نے بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا سلطان نے قاصد کو واپس جواب دیا کہ ہم نے ہلاکو خان کا کچھ نہیں بیگاڑا اس لیے اسے چاہیے کہ وہ مصر کو اس کے حال پر چھوڑ دے ہمارے امن و امان میں خلل اندازی کی کوشش نہ کریں یہ سن کر ہلاکو خان کا قاصد سردار غصے سے لال بگولا ہو گیا غصے سے چلاتے ہوئے کہا تو گویا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا حشر بھی وہی ہو جو اس سے پہلے ہم نے بغداد کے خلیفہ کا کیا ہے اچھی طرح ذہن نشین کر لو ہمارے بادشاہ کی قوت بہت بڑی ہے دنیا کی کوئی طاقت اسے ٹکر نہیں لے سکتی وہ جدھر کا رخ کرتا ہے وہاں تباہی پھیلا دیتا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم جیسے حکمران اور اس کی رعایت سے کیسا سلوک کرنا چاہیے مصر کے بادشاہ نے انہیں بہت سمجھایا لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تب اس کے وزیر سلطان بیبرس نے کہا کہ ان کتوں کی زبان کھینچ لی جائے ان کو قتل کردو ہلاکو خان کو یہی ہمارا جواب ہوگا سارے دربار میں سناٹا چھا گیا سلطان کا حکم پاتے ہی سپاہی کھڑے ہو گئے انہوں نے ہلاکو خان کے قاصدوں کو جکڑ دیا اور آناً فاناً  قتل کردیا اور ان سب کی لاشیں شہر کے چوراہوں پر لٹکا دی گئی تاکہ لوگوں میں منگولوں کا خوف کم ہو جب یہ خبر ہلاکو خان کو ملی تو وہ بہت  تیش اور غصے میں آگیا اور اس نے مصر پر حملہ کرنے کا ارادہ کرلیا ادھر مصر کے  سپہ سالار سلطان رکن الدین بیبرس نے بھی جنگ کی تیاری شروع کر دی اور تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا جب سلطان رکن الدین نے  منگولوں کی گردن توڑ کر رکھ دی ہے اور ان کا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیا.     

   جب منگول مسلمانوں کے علاقوں پر حملہ آور ہوئے تو انہوں نے جوانوں بچوں کو غلام اور عورتوں کو کنیزیں بنا کر فروخت کرنا شروع کر دیا ان بدقسمت بچوں میں بیبرس بھی شامل تھا بیبرس کو بھی غلاموں کی منڈی میں غلام بنا کر لایا گیا ایک شخص نے دو سو درہم میں سودا طے کیا کر جب اس نے دیکھا کہ بچے کی نیلی آنکھوں میں زخم ہے تو اس نے سودا منسوخ کر دیا بیبرس غلاموں کی منڈیوں میں جگہ جگہ تھکے کھاتا ہوا مصر کے بازار میں جا پہنچا

جہاں ایک مصری نے خرید لیا اس مصری کا نام علی ابن الورفہ تھا بیبرس کا مالک ایک اور مصری کا مقروض تھا اس نے بیبرس کو اس مصری کے حوالے کردیا اب اس مصری کی بیوی نے اپنے چھوٹے بچے کی دیکھ بھال بیبرس کے سپرد کر دی ایک دن بیبرس سے کوئی غلطی ہوگئی اس کی مالکن نے اسے مار مار کر بے حال کر دیا

اس موقعے پر اس مصری کی بہن فاطمہ بھی وہاں موجود تھی جب اس نے دیکھا کہ اس کی بھابھی ایک غلام بچے کو بری طرح پیٹ رہی ہے تو اس کے دل میں رحم آگیا اس نے آگے بڑھ کر کہا اگر تم بچے سے خوش نہیں ہوں تو اس کو میرے حوالے کر دو وہ عورت جس پر رضامند ہوگئی

جاری ہے



اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ


ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

جدید تر اس سے پرانی