مفسرین لکھتے ہیں کہ ایک برگزیدہ ہستی اپنے گدھے پر
سوار ایک ایسی بستی سے گزری جو بالکل تباہ و برباد اور کھنڈر ہو چکی تھی وہاں ہر طرف تباہی و بربادی کے آثار تھے وہاں کوئی ذی روح نہیں تھا اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہ ویران بستی پھر کیسے آباد ہو گئی اور یہاں پر رہنے والے پھر کیسے زندہ ہوں گے اللہ تعالی نے اسی جگہ ان کی روح قبض کرلی وہ سو برس تک مردہ حالت میں وہیں پڑے رہے سو برس گزر جانے کے بعد اللہ تعالی نے ان سے پوچھا بتاؤ کتنے عرصے سوۓ اس وہ جب تعجب کرنے پر موت کی نیند سوئے ہوئے تھے تو دن پڑھنے کا وقت تھا اور جب دوبارہ زندگی پائی تو آفتاب غروب ہونے کا وقت تھا اس لئے انہوں نے جواب دیا ایک دن یا اس سے بھی کم اللہ تعالی نے فرمایا ایسا نہیں ہے بلکہ تم سو برس تک اسی حالت میں یہیں پر سوتے رہے ہو اور اب تمہاری حیرت اور تعجب کے یہ بستی کیسے آباد ہوگی اس کا یہ جواب ہے کہ تم ایک طرف اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو اس میں کوئی فرق نہیں آیا جیسی تھی ویسے ہی پڑی ہیں اور دوسری جانب اپنے گدھے کو دیکھو اس کا جسم گل سڑ گیا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ پڑا ہے اور پھر ہماری قدرت کا اندازہ کرو کے جس چیز کو چاہا محفوظ رکھا وہ چیز سو برس کے اس لمبے عرصے میں محفوظ رہیں اور موسموں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا جس چیز کے متعلق ارادہ کیا کہ گل سڑ جائے وہ گل سڑ گئی اب ہم تمہارے سامنے اس گدھے کو جو کہ ڈھانچہ بن چکا ہے ہم اس کو دوبارہ زندگی بخش دیتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے تاکہ ہم تمہارے واقعے کو لوگوں کے لیے نشان بنا دیں اور تاکہ تم یقین کے ساتھ مشاہدہ کر لو کہ خدائے تعالیٰ اس طرح مردہ کو زندگی بخش دیتا ہے بزرگ نے یہ نشانات دیکھنے کے بعد شہر کی جانب نظر کی تو اس کو پہلے سے زیادہ آباد اور بارونق پایا۔
اس بزرگ کا نام حضرت عزیر علیہ السلام تھا حضرت عزیر علیہ السلام وہاں سے گذرے آپ کے پاس کھانے پینے کا سامان تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے آپ تمام کھنڈرات میں پھر لیکن آپ کو تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا وہاں کوئی زی روح موجود نہ تھا بستی کی تمام عمارتیں منہدم ہو چکی تھی اور ویرانی ہی ویرانی تھی آپ کے منہ سے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ کیا مردہ بستی بھی دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے آپ نے اپنے گدھے کو ایک طرف باندھ دیا اور آرام فرمانے کے لئے ایک جگہ لیٹ
گئے اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئیں اور آپ کا گدھا بھی مر گیا آپ کا کھانے پینے کا سامان وہیں پڑا رہا یہ صبح کا وقت تھا وقت گزرتا چلا گیا آپ کے شہر میں دوبارہ آبادی ہوگی اور آپ کی قوم دوبارہ آباد ہو گی لیکن وہ بستی جو ویران پڑی تھی اور جس میں حضرت عزیر علیہ السلام مدد حالت میں پڑے تھے کسی کو دکھائی نہ دیں کہ اللہ تعالی کی یہی قدرت کاملہ ہے آخر آپ کی وفات کو سو برس گزر گئے پھر اللہ تعالی نے حضرت عزیر علیہ السلام کو زندہ کیا پہلے آپ کی آنکھوں میں جان آئی اور آپ نے اپنی آنکھوں سے اپنے مردہ جسم کو زندہ ہوتے دیکھا جس وقت آپ کو دوبارہ زندگی ملی یہ شام کا وقت تھا ابھی سورج غروب نہ ہوا تھا اللہ تعالی نے زندہ کرنے کے بعد حضرت عزیر علیہ السلام سے پوچھا اے میرے بندے تو یہاں اس حالت میں کتنی دیر رہا حضرت عزیر علیہ السلام نےاپنے انداز سے جواب دیا اے اللہ تعالی ایک دن یا کچھ کم آپ کا خیال تھا کہ صبح کے وقت مجھے یہ واقعہ پیش آیا اور اس وقت شام ہونے کو ہےاللہ تعالی نے فرمایا کہ تم سو برس تک اسی حالت میں رہے اور اب آپ اپنے گدھے کو دیکھئے کہ وہ سو برس پہلے مر چکا تھا حضرت عزیر علیہ السلام نے گدھے کو دیکھا تو وہاں گدھے کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں اور ان پر کھال بال گوشت نام تک کو نہ تھا آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے ہڈیاں یکجا ہونے لگی آپ کا گدھا دوبارہ زندہ ہونے لگا اور اس میں زندگی آنے لگی وہ زندہ ہو کر رینگنے لگاآپ فورا اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے اور فرمایا یا باری تعالیٰ میں خوب جانتا ہوں کہ تو ہر شے پر قادر ہے تو خالق و مالک ہے اب مجھےپختہ یقین ہوا آپ اسی گدھے پر سوار ہو کر اپنی رہائش گاہ پر اپنی بستی میں تشریف لائے آپ کی عمر مبارک 40 سال تھی لیکن آپ کے سر اور ریش مبارک کے بال برف کی طرح سفید ہو چکے تھے آپ بستی میں پہنچے تو آپ کو کوئی پہچانے والا نہ تھا آپ انداز سے اپنے مکان پر پہنچے تو ایک ضعیف بڑھیا پاؤں سے معذور اور آنکھوں سے اندھی بیٹھی نظر آئیں وہ بڑھیا آپ کے گھر کی کنیز تھی اور وہ آپ کو جانتی تھی اور اس کے علاوہ کوئی پہچاننے والا نہ تھا آپ نے بڑھیا سے پوچھا یہ مکان عزیر علیہ السلام کا ہے اس نے کہا ہاں یہ مکان عزیر علیہ السلام کا ہی ہے آپ نے پوچھا کیا تو جانتی ہے عزیر علیہ السلام کہاں ہیں وہ آپ کی بات سن کر رونے لگی اور کہنے لگی اسے سو برس گزر گے ان کا تو پتہ ہی نہیں کہ وہ کہاں ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میں عزیر ہوں اللہ تعالی نے مجھے دوبارہ زندگی عطا فرمائی ہے کہ سو برس پہلے میں فلاں بستی میں جو ویران ہوچکی تھی مر گیا تھا اور سو سال تک وہی مردہ پڑا رہا بڑھیا تعجب سے بولی سبحان اللہ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے میں اندھی ہو چکی ہوں میں عزیر علیہ السلام کو پہچانتی ہو اگرمیری آنکھیں ہوتی تو میں آپ کو دیکھ سکتی ہے تو تصدیق کرتی اس بار حضرت عزیر علیہ السلام نے دعا کی جو قبول ہوئی اور اس نابینا عورت کو اللہ تعالی نے آنکھیں عطا فرمائی آنکھیں ٹھیک ہوتے ہی اس عورت نے آپ کو پہچان لیا آپ نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا اللہ کے فضل و کرم سے کھڑی ہو جا عورت کے پاؤں اور ٹانگیں ٹھیک ہوگی اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی اس عورت نے خوشی و مسرت سے آپ کا ہاتھ چوم لیا اور زور زور سے چلانے لگی لوگوں کو یہی اللہ کے نبی حضرت عزیر علیہ السلام ہیے وہ آپ کو لوگوں کے ایک مجمے میں لے گئی جہاں آپ کے فرزند بھی موجود تھے ان کی عمر تقریبا ایک سو اٹھارہ سال ہو چکی تھی بڑھیا نے مجلس میں شریک لوگوں کو پکار کر کہا اے لوگو انھیں پہچانو کہ یہ حضرت عزیر جو سو سال پہلے گم ہوگئے تھے یہی اللہ کے نبی ہیں اہل مجلس نے آپ کو پہچاننے سے انکار کر دیا اور بولے یہ کیسے ہو سکتا ہے اس پر مجلس میں ہی آپ کے بیٹے نے اٹھ کر کہا ٹھہرو میرے والد کے شانوں کے درمیان سیاہ بالوں کا ایک ہلال سا موجود تھا وہ نشانی اگر موجود ہے تو بے شک یہ میرے والد ہیں اگر نہیں تو پھر تمہیں اختیار ہے لوگوں نے حضرت عزیر سے یہ نشان دکھانے کو کہا آپ نے ان لوگوں کو وہ نشان دکھایا جو موجود تھا اس پر آپ کے بیٹے نے کہا کہ میرے والد کو توراۃ زبانی یاد تھی اگر آپ میرے والد ہیں تو زبانی تورات سنائے آپ نے ساری تورات زبانی سنا ڈالیں ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ آپ نے تورات زبانی سنا دی ہے لیکن ہمیں یاد نہیں اور ہم اس کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ آپ نے تورات صحیع سنائی ہے یا نہی اس پر انہی میں سے ایک شخص نے کہا کہ میرے دادا نے تورات کا ایک نسخہ کسی زمانے میں ایک جگہ دفن کر دیا تھا تورات کا وہ نسخہ میں نکال لیتا ہوں اور پھر ہمیں اس بات کی تصدیق بھی ہو جائے گی سب لوگ اس جگہ جہاں تورات کا نسخہ دفن تھا پہنچے اور وہ تورات کا نسخہ کھود نکالا اب جو حضرت عزیر علیہ السلام نے تورات سنائیں وہ حرف بہ حرف صحیح تھا اس شخص نے جس نے تورات نکالی تھی وہ قائل ہوگیا اور سارے لوگ اس دلیل پر متفق ہو کر آپ پر ایمان لے آئے اس شخص نے بتایا کہ بخت نصر بابل کے حکمران نے جس وقت حملہ کیا پورے علاقے کو تخت و تاراج کیا اس وقت سخت تباہی و بربادی آئی اور تورات کا یہ نسخہ میرے دادا نے اس بکس میں بند کر کے اس جگہ دفن کردیا تھا تاکہ بے حرمتی نہ ہو سکے
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ