اگست 14
کو پاکستان کے ایک تاریخی اور یادگار مقام مینار
پاکستان پر ایک سانحہ پیش آیا جس میں ایک ہجوم نے لڑکی پر تشدد کیا اور اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے
عائشہ نامی ٹک ٹاکر 14 اگست کو مینار پاکستان پر ویڈیو بنانے کے لیے آئ تو لوگوں نے اس کے نازیبا کپڑوں اور اور اشاروں کو بہانا بناتے ہوئے اس پر تشدد کیا جبکہ عائشہ کے بیان کے مطابق اس نے کوئی نازیبا کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے نہ ہی وہ کوئی اشارے کر رہی تھی وہ یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان میں اپنی ٹیم کے ہمرا ویڈیوز بنانے کے لیے آئی تھیں
مینار پاکستان جیسی جگہ پر ایک عورت کی سرعام بے عزتی اور تشدد کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے موقع پر موجود کچھ لوگوں کے مطابق ٹک ٹاک کر عائشہ فلائنگ کس کر رہی تھی جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ عایشہ کے بیان کے مطابق ایسا کچھ بھی نہیں وہ صرف اپنی ویڈیو اور سیلفی بنانے میں مصروف تھیں کے لوگوں نے انہیں گھیر لیاحقیقت چاہے کچھ بھی ہو لیکن ایک عورت کی یوں سرعام تذلیل کرنا ایک مذہب معاشرے کے لئے بد نما داغ ہے باتور ایک مذہب قوم کے اس طرح کے کسی بھی عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی اس طرح کا کوئی بھی عمل عورتوں کے لیے خوف
Hi
جواب دیںحذف کریں