حضرت عزیر علیہ السلام کا دور صحیح حوالے سے ثابت
نہیں لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے پیدائش سے تقریبا سو سال پہلے بابل انتہائی ترقی یافتہ ملک تھا اس میں عمالقہ کی قوم بستی تھی قدآور جنگجو اور ان کا بادشاہ بخت نصر تھا جو انتہائی ظالم اور بے رحم تھا اسے اپنے سلطنت کی حدود بڑھانے کا جنون تھا اور اسی جنون کی خاطر وہ آس پاس کے ملکوں پر حملہ کرتا رہتا اسی جنون میں اس نے یروشلم پر حملہ کیا اور فلسطین کو یکے بعد دیگرے تین مرتبہ تباہ و برباد کیایروشلم کی عبادت گاہ سے قیمتی اور متبرک برتنوں اور سامان کو لوٹ لیا اور اسے اپنے فوجیوں کے حوالے کردیا فوجی ان مبارک برتنوں میں شراب ڈال کر پیتے اور قہقےلگاتے انہوں نے زبردست قتل و غارت کی بوڑھے اور بچے قتل کر دیئے جوانوں کو غلام بناکر منڈیوں میں بیچ دیا بخت نصر نے نہایت بے رحمی سے حکم دیا کہ کمزور بیماروں کو قتل کر دیا جائے اور جوانوں نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جائے فوج نے اپنے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی اور مکانوں اور عمارتوں میں لوٹ مچا دی بستی اور شہر تباہ و برباد کر دیئے گئے بخت نصر اس ساری کارروائی کے دوران گھوڑے پر سوار اپنے فوجی دستے کے ہمراہ نگرانی کرتا رہا اس نے عمارتوں کو گرا دیا گھروں میں آگ لگا دی ہے اور عبادت گاہوں تک کو نہ چھوڑا صحیفے اور مقدس کتابیں تک جلا ڈالیں بادشاہ بخت نصر یروشیلم اور اس کے نواح میں تباہی و بربادی مچا کر قوم کو غلام بناکر بابل لے گیا اس میں حضرت عزیر علیہ السلام بھی شامل تھے بخت نصر نے انہیں بزرگی کے لحاظ سے اپنا مشیر بنا لیا حضرت عزیر علیہ السلام کے علاوہ ان کے مشیروں میں حضرت دانیال علیہ السلام بھی شامل تھےایک رات بادشاہ بخت نصر کو ایک خواب نظر آیا اس نے دیکھا کہ ایک بلند و بالا درخت نہایت گھنا نہایت مضبوط اور اس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں پرندے اس میں اپنے گھونسلے بنائے ہوئے ہیں اس کی جڑیں مضبوط اور اس کا سایہ نہایت گھنا ہے اور لوگ اس کے سائے میں آرام کر رہے ہیں اس نے دیکھا کہ آسمان سے ایک عجیب مخلوق اتری اور درخت کے پاس آگئی بخت نصر نے اس مخلوق سے پوچھا تم کون ہو تو اس مخلوق نے جواب دیا کہ میں فرشتہ ہوں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں درخت کاٹ ڈالو اور اس کی جڑ کو اکھاڑ کر زمین کے اوپر ڈال دو تاکہ آسمان سے جو شبنم گرے وہ نمی پیدا کرے اور گھاس اگے یہاں تک کہ سات دور گزر جائیں یہ کہہ کر وہ مخلوق غائب ہوگئی اور بخت نصر کی آنکھ کھل گئ اس نے نجومیوں کو اکٹھا کیا ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی بہت دنوں تک ملک کے نامور نجومیوں اس خواب کی تعبیر ڈھونڈتے رہے لیکن ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا آخر بخت نصر نے حضرت دانیال
اور حضرت عزیر سے اس سوال کا جواب پوچھا حضرت دانیال علیہ السلام کیوں کے بڑے تھے انہوں نے کہا اے بخت نصر سن کے تو نے خواب میں جو درخت دیکھا وہ درخت تیری سلطنت ہےاللہ تعالی کا فیصلہ ہے کہ تیری حکومت ختم کر دی جائے اور تجھ سے حکمرانی چھین لی جائے اور تجھے جنگل بدر کر دیا جائے گا تو گھاس کھائے گا تیرے سر پر کوئی چھت نہ ہو گئی آسمان سے تجھ پر شبنم گری گی اور تیرا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا اور یہ عذاب تجھ پر سات سال تک قائم رہے گا اور پھر تجھ پر ظاہر ہوگا کہ تمام حکم اور بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور پھر تجھے یہ معلوم ہوگا کہ وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے جسے چاہے حکومت دے اور جسے چاہے ذلت دے اور جب سات سال گزر جائیں گے تو تجھ کو تیری حکومت واپس مل جائے گی بادشاہ نے یہ بات سنی تو اسے پریشانی ہوئی لیکن اطمینان بھی ہوا کہ میری حکومت مجھے واپس مل جائے گی وہ کاروبار حکومت میں الجھ کر اس خواب کو بھول گیاپھر ایک وقت ایسا آیا کہ بابل میں بخت نصر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور بخت نصر اپنی جان بچا کر جنگلوں کی طرف بھاگ گیا وہ بابل سے دور مارا مارا پھرتا رہا جنگلوں میں جنگلی پھل گھاس ۔ اپنا گزارا کرتا رہا آخر اسی حال میں حضرت دانیال علیہ السلام کی پیشنگوئی کے مطابق سات سال گزر گئے اسے حضرت دانیال علیہ السلام کے باتیں یاد آئی اور وہ سجدے میں گر گیا اور اللہ کریم سے التجا کرنے لگا کہنے لگا اے باری تعالیٰ تو واقعی قادر مطلق ہےمجھے معاف کردے اس نے رو رو کر اللہ تعالی سے عرض کی اے ہمیشہ زندہ رہنے والے خدا تیری حکومت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی تیری حکومت لازوال ہے تو جسے چاہے حکومت دے دے جسے تو چاہے چھین لے تو شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے میں ایک ناچیز بندہ ہوں میں سمجھ چکا ہوں مجھے معاف فرما اور مجھے رحمت کے سائے میں لے لےوہ رو رو کر دعا مانگ رہا تھا ادھر بخت نصر کے ملک بابل میں حالات سدھر چکے تھے اور اس کے وزراء عمرہ اور دوسرے ارباب حکومت اسے ڈھونڈنے جنگل میں اس کے پاس پہنچےبخت نصر نے جوں ہی سجدے سے سر اٹھایا اس نے اپنے وزرا کو اپنے سامنے پایا بے اختیار بول اٹھا ہے رب العزت تو بےشک زبردست ہے تجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں تو سننے والا ہے انصاف کرنے والا اور مغرور و کا غرور مٹی میں ملا دینے والا ہے تو رب العالمین ہے اس کے درباری اسے اپنے ہمراہ لے گئے اور وقت نصر ایک مرتبہ پھر بابل کا شہنشاہ بن گیا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
Tags
تاریخ
اعلي
جواب دیںحذف کریں