السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اج ایک خبر سوشل مڈل پر بہت زیادہ گردش کر رہی ہے
افغانستان کی حکومت نے برائلر کو حرام قرار دے دیا ہے حرام قرار دینے کا یہ واقعہ پہلی دفعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے فتوے ہیں جس میں برائلر مرغی کو حرام قرار دیا گیا ہے افغانستان میں اس وقت کیونکہ طالبان کی حکومت ہے اس لیے طالبان نے برائلر مرغی کو حرام قرار دے دیا ہ
ہیں طالبان دیو بند فقہ سے تعلق رکھتے ہیں
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دیوبند کے مرکزی مدرسے دارالعلوم دیوبند کا ایک فتوی جاری ہوا ہے جس میں بریر مرغی کو حلال قرار دیا گیا ہے جبکہ طالبان کی طرف سے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے
ایک ہی فقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک فتوے پر الگ الگ نظریہ قابل حیرت انگیز ہے ایک گروہ کا اسے حلال قرار دینا اور دوسرے کا اسے حرام قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے
ایسی صورتحال میں ایک عام ادمی کا اسے حلال یا حرام سمجھنا بہت ہی زیادہ مشکل ہے اور اس کے لیے پریشانی کا بحث ہے تمام علماء کرام کو چاہیے کہ اس مسئلے کو بیٹھ کر تفصیل سے ایک فتوی جاری کیا جائے تاکہ ہر قسم کی کلفی دور ہو جائے
افغانستان کی حکومت کے مطابق برائلر مرغی کی خوراک میں حرام چیزوں کی امیزش ہے جس کی وجہ سے مرغی کا گوشت بھی حرام تصور کیا جاتا ہے پاکستان سے یر ملین ڈالر کی بلکہ افغانستان کو سپلائی کی جاتی ہے ایسی صورتحال میں پاکستان کو ڈیڑھ ملین کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ طالبان کے حکومت کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر بحث کریں اور اپس میں کوئی اتفاق رائے کام کریں
افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے برائدر مرغی کے بورڈ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس سے پاکستان کو ڈیڑھ ملین ڈالر کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے پاکستان کے بولٹری انڈسٹری بری طرح سے متاثر ہونے کا اندیشہ بھی ہے جبکہ پاکستانی حکومت نے پولٹری انڈسٹری کو واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کر دے گی اور انڈسٹری کو نقصان سے بچائے
